بھٹکل یکم جولائی (ایس اؤنیوز) کل آدھی رات سے ملک بھر میں نیا ٹیکس سسٹم جی ایس ٹی قانون نافذ کیا جاچکاہے ، بھٹکل کی اگر بات کریں تو تعلقہ میں کچھ تاجروں کے علاوہ کسی اور پر اس کےاثرات نظر نہیں آئے اور حسب معمول بازار وں میں لین دین جاری رہا۔
سنیچر سے ہی شہر کی اہم دکانوں میں جی ایس ٹی نامی ٹیکس کارروائی جاری ہوچکی ہے، لیکن کچھ تاجر جی ایس ٹی کی وجہ سے پیچیدگی کا شکا رہیں، انہیں پتہ نہیں چل پارہاہے کہ وہ کس قیمت پر گاہکوں کو بل اداکریں۔ وہیں جی ایس ٹی کو لے کر بلینگ کے معاملے میں ابھی تک کوئی ٹکنیک جاری نہیں ہونے سے شروعاتی طورپر جی ایس ٹی اپنی رفتار پکڑنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ شہر کے تاجروں کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی سے ہمیں کوئی نقصان ہونے والا نہیں ہے ، نئے ٹیکس کے طریقوں سے آشنا ہونے کے لئے دو تین مہینے لگیں گے ۔ہندوستان لیور جیسی مشہور کمپنیاں بھی آئندہ 3-4دنوں تک اپنی بلوں کو رو ک رکھا ہے ، خدشہ جتایا گیا ہے کہ آئندہ 2-3ہفتوں تک مشہور کمپنیوں کے اشیاء کی مارکیٹ میں قلت ہوسکتی ہے۔عام دکانوں سے اشیاء کی خریدار ی میں ایسا کوئی اہم بدلاؤ نہیں دیکھا گیا ہے۔البتہ ایک دو ہوٹلوں میں کھانے کی اشیاء میں کچھ اضافہ ضرور نظر آیا ہے۔ چھوٹی دکانوں ، ہوٹلوں کے مالکان اپنی جگہ جی ایس ٹی سے بے پرواہ جو سب پر لاگو ہوگا وہی ہم پر بھی ہوگا کے مصداق خاموش ہیں۔ کلی طورپر جی ایس ٹی ناٖفذ ہونے کے پہلے دن ایسی کوئی تبدیلی یا کمی اضافہ کو نہیں دیکھا گیا ہے ، ماہرین کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی کو نافذ ہوئے صرف ایک دن گذراہے دو تین ماہ کے بعد اس کے اثرات عوام پر ظاہرہونے لگیں گے اس وقت کیا حالات ہونگے کہنا قبل از وقت ہوگا۔ جی ایس ٹی کو لے کر شہر کے کچھ تاجروں نے اپنے خیالات کااظہار کیا ہے ۔
بھٹکل تعلقہ مرچنٹ اسوسی ایشن کےصدر وینکٹیش پربھو نے بتایا کہ جی ایس ٹی کو لے کر تاجروں اور گاہکوں کو جانے دیجئے ، خود ٹیکس افسران کو بھی زیادہ معلومات نہیں ہیں، جس کی وجہ سے پیچیدگی پیدا ہوئی ہے، حکومت کو جی ایس ٹی نافذ کرنے سے پہلے ضروری جانکاری اور معلومات دینی چاہئے تھی۔
بھٹکل کی معروف انفال سوپر مارکٹ کے امتیاز رکن الدین نے جی ایس ٹی کے تعلق سے بتایا کہ اس نئے ٹیکس سسٹم کو لاگو کرنے کے لئے کچھ وقت درکارہے ، بیلنگ سسٹم میں اس کو نصب کرنا ہے، اُمید ہے کہ آئندہ کچھ دنوں بعد سب کچھ ٹھیک ہوگا۔
انجمن ڈگری کالج بھٹکل کے لکچررمنجوناتھ پربھو کا کہنا ہے کہ جی ایس ٹی نامی نئے ٹیکس طریقے سے بلنگ کرنے کے دوران تاجر حضرات کو دقت پیش آنا فطری بات ہے ، کیونکہ اس معاملے میں ابھی ٹکنیکل اضافہ ہونا باقی ہے ، حکومت اس سلسلے میں رعایت بھی دے رہی ہے ، جس سے اس بات کا اطمینان ہے کہ اس سے گاہکوں کو کچھ پرابلم نہیں ہوگا۔
ممبئی کے ایک ہول سیل بیوپاری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جی ایس ٹی سے بہت بڑا مسئلہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے، اس نئے ٹیکس سسٹم کو دیکھتے ہوئے وہ اب سوچ رہے ہیں کہ ہول سیل کاروبار بند کرکے ریٹیل کا کام شروع کریں۔ ان کے مطابق جی ایس ٹی سے چیزوں کے دام بڑھنے لازمی ہیں، بالخصوص روزمرہ استعمال ہونے والے کپڑے مہنگے ہوں گے۔
بھٹکل شرالی کے محمد اسلم نے بتایا کہ جی ایس ٹی سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے ، آج ہم نے معمول کے مطابق چلنے والی قیمتوں پر ہی سامان کی خریداری کی ہے، آئندہ کیا ہوگا دیکھنا ہوگا۔
بھٹکل کے پلے ووڈ کے بیوپاری ثناء اللہ گوائی نے بتایا کہ جی ایس ٹی سے اب انڈر انوائسنگ ممکن نہیں ہوگی، اگر انڈرانوائسنگ کریں گے تو بیوپاریوں کو نقصان ہوگا، اس لئے اب صحیح بل کے ساتھ ہی بزنس کرنا ضروری ہوجائے گا۔ ثناء اللہ کے مطابق وہ جس ریاست سے مال منگواتے ہیں، جملہ 29 فیصد ٹیکس کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے، مگر اب GST لاگو ہونے سے 28 فیصد ٹیکس دینے ہوں گے، اس مناسبت سے دام میں کمی واقع ہوگی۔ ثناء اللہ نے مزید بتایا کہ اب اس تعلق سے بھٹکل میں 5 جولائی کو جو ورکشاپ منعقد کیا گیا ہے، اُس سے اس نئے ٹیکس سسٹم کو سمجھنا ضروری ہوگا، جس کے بعد ہی بہت سارے خدشات دور ہوسکتے ہیں اور ایک صحیح تصویر سامنے آسکتی ہے۔